Skip to main content
یورپ کاایسا واحد ملک جو کورونا وائرس (COVID-19)سے پریشان نہیں
یورپ کاایسا واحد ملک جو کورونا
وائرس سے پریشان نہیں ہے
- یورپ اب کورونا وائرس
کی عالمی وبا کا مرکز بن چکا ہے۔ لیکن اسی براعظم پر ایک
ایسا ملک بھی ہے جہاں حکام عوام کو اپنے روز مرہ کی زندگی کے معمولات کو تبدیل نہ کرنے
کی ہدایات دے رہے
- بیلاروس کئی اعتبار
سے ایک انوکھا ملک ہے یہ یورپ کے دیگر
ملکوں اور اپنے قریب ترین ہمسایہ ممالک روس اوریوکرین سے بہت مختلف رویہ اختیار
کیے ہوئے ہے
- یوکرین ہنگامی حالت
نافذ کرنے والا ہے ۔جبکہ روس میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ اجتماعات پر پابندی ہے
اور ملک میں آنے اور جانے والی تمام پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف
بیلاروس میں کئی لحاظ سے زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
- بیلا روس کی سرحدیں
کھلی ہیں، لوگ اپنے کاموں پر جا رہے ہیں
- بیلاروس کے صدر
الیگزیندر لوکاشنکو کہتے ہیں۔ کہ ملک کو کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے
کے لیے کوئی احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
- ملک کے دارالحکومت
منسک میں چین کے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ
دہشت زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
- بیلا روس نے سنیما
ہال اور تھیٹر بند نہیں کیے ہیں اور نہ ہی اجتماعات پر پابندی بھی نہیں لگائی ہے ، دنیا بھر میں یہ واحد ملک بچا ہے جس نے اپنے
فٹبال مقابلے منسوخ نہیں کیے ہیں۔
- بیلا روس کی پریمیئر
شپ کے میچ معمول کے مطابق کھیلے جا رہے ہیں ، یہ مقابلے ہمسایہ ملک روس میں فٹ بال
دیکھنے کو ترسے ہوئے شائقین کے لیے براہ راست ٹی وی پر نشر بھی ہو رہے ہیں۔
- صدر لوکاشنکو کا یہ
بیان کہ ’ٹریکٹر کورونا کا علاج کرے گا‘ عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور اس کا
سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہے۔
- صدر لوکاشنکو کا
اشارہ کھیتوں میں دیانتداری سے پوری محنت کرنے کی طرف تھا، صدر خود تو شراب نہیں
پیتے لیکن ان کا کہنا تھا ،کہ کورونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش میں واڈکا
رہ جائے گی۔
- لیکن بیلاروس کے بہت
سے عام شہری شدید تشویش کا شکار ہیں ،کیوں کے انھیں علم ہے کہ باقی دنیا میں کیا
ہو رہا ہے۔
- عوام میں پائی جانے
والی تشویش کے پیش نظر کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کلاسوں کے اوقات بدل دیے
گئے ہیں تاکہ طالب علموں کو دن کے مصروف اوقات میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر نہ کرنا
پڑے۔
- منسک کی سڑکوں اور
گلیوں میں کم لوگ نظر آ رہے ہیں ،اور لوگوں کو اس بات کا احساس ہے ،کہ عمر رسیدہ
افراد کو اس وبا سے زیادہ خطرہ ہے، لیکن لوگوں کو اس وبا کے بارے میں جو کچھ معلوم
ہوا ہے، اس میں حکام کا بہت کم ہاتھ ہے۔
- صدر لوکاشنکو کہتے
ہیں کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، کیونکہ بیرونی ممالک سے آنے والے تمام
مسافروں کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔
- ان کا دعوی ہے کہ ایک
دن میں صرف دو سے تین مسافروں کو کورونا کا شکار پایا جاتا ہے ،اور انھیں فوراً
قرنطینہ میں ڈال دیا جاتا ہے ،جہاں سے وہ ڈیڑھ سے دو ہفتوں بعد جا سکتے ہیں۔
- لوکاشنکو کا اصرار ہے
کہ پریشانی اور ذہنی دباؤ بہت خطرناک ہوتے ہیں، اور یہ وائرس سے بھی زیادہ خطرناک
ہیں، انھوں نے ملک کی خفیہ ایجنسی ’بیلاروس کے جی بی‘ کے اہلکاروں کو ہدایت کی ہے،
وہ افواہیں اور خوف و ہراس پھیلانے والے شرپسندوں پر نظر رکھیں۔
- اب تک بیلاروس میں
کورونا وائرس کے 86 مریض سامنے آئے ہیں، اور کورونا وائرس میں مبتلا دو مریضوں کی
موت ہو چکی ہے، اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق ہو چکی ہے کہ یقیناً یہ مریض کورونا
وائرس ہی کا شکار ہوئے ہیں۔
Comments
Post a Comment