کورونا
شروع کیسے ہوا؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ صرف انسانوں میں
نیا ہے۔ یہ ایک مخلوق سے دوسری میں آیا ہے
کئی ابتدائی کیسز چین
کے ایسے بازار سے جوڑی گئے جہاں جانوروں کا گوشت ملتا تھا
چین میں کئی لوگ
جانوروں سے بہت قریب ہوتے ہیں جس سے یہ وائرسز منتقل ہو سکتا ہے،سارس نامی بیماری
بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔،یہ چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور انسانوں تک
پہنچی تھی
سارس کی وبا نے چین
میں سال 2002ء کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا جبکہ آٹھ ہزار سے زائد اس سے متاثر
ہوئےتھے
اس کی علامات کیا ہیں؟؟؟؟
یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی
ہے۔
ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری
ہوتی ہے ،بعض مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے
اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے
لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دن ہے،لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ
یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔۔
کچھ چینی سائنسدانوں کا خیال ہے ،کہ
کچھ لوگ خود میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
کورونا
وائرس کس قدر جان لیوا ہے؟؟؟؟
اس وائرس سے متاثر
ہونے والے 44000 مریضوں کے ڈیٹا کے جائزہ کے بعد عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا
کہنا ہے کہ
کورونا وائرس سے مرنے
والوں کی شرح ایک سے دو فیصد رہی لیکن ان اعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا
ہزاروں افراد کا علاج
اب بھی جاری ہے اور شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے، لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی
پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں، جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات
کم بھی ہو سکتی ہے
کیا
کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے؟
تاحال اس کا علاج
بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم
کر کے۔تا کہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔
تاہم اس کے لیے
ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا
انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔
ہسپتالوں میں وائرس
کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال شروع کر رکھا ہے ۔تاکہ دیکھا جا سکے کے
آیا ان کا کوئی اثر ہے۔
ہم
خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
اپنے ہاتھ ایسے صابن
یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو
کھانستے یا چھینکتے
ہوئے اپنے منہ کوٹشوسے ڈھانپیں، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں
کسی بھی سطح کو چھونے
کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں،جس کی وجہ سے یہ وائرس آپ
کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
ایسے لوگوں کے قریب
مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو، ایسے افراد سے کم از
کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔
اگر طبیعت خراب محسوس
ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہوتو فوری طبی
مدد حاصل کریں۔
Comments
Post a Comment